Sidra tul Muntaha is a famous Digest Writer, She has written many quality content in Digest.
Her Novel is worth Reading
حقیقت تو یہ ہے کہ میں اگر فقیہہ کی جگہ ہوتی تو پہلے ہفتے واپس آجاتی اور کسی کے سامنے جواب دہ نہ ہوتی ۔ میری زندگی میری مرضی ۔ سمجھوتے بھی کرو اور خود کو بے قصور ثابت کرنے کے مرحلے سے گزرنے کے لیے سو سوالات کے جوابات تراشو ۔ میں یا تو زبان سے لڑتی یا انہیں کی طرح ان سے خموشی میں جنگ کرتی اور بتا دیتی کہ عورت کیا ہے ۔ گھر کیا ہے ، انسان انسان ہے گھر بنا کر رکھنے کے ذمداری فقط عورت ہی پر نہیں مرد پر بھی ہے ۔ اگر گھر نہ بنا تو دونوں برابر کے قصور وار ہیں بلکہ قصور وار ہی کیوں ۔ اگر نہیں بن سکی تو نہیں بن سکی ۔ ڈھور ڈنگر نہیں کہ کھونٹے سے بندھے رہتے ۔
فرحانہ تیز رفتاری سے کہہ گئی ۔
وہ فون اٹھا کر ملانے لگے ۔ نہ فرحانہ کے سوالوں کے جوابات تھے نہ دے سکتے تھے پھر مایوس ہو کر اسے دیکھا ۔
نمبر بند ہے اس کا ۔
کچھ دن ٹھہر جائیں ۔
نہیں فرحانہ ۔ بیٹی کا باپ ہوں ۔ ڈرتا ہوں ۔ دعا کرو برا نہ ہو ۔
یہ دعا نہ کروں کہ وہ جس میں فقیہہ کی خوشی ہو؟
یہ دعا کرتے ہیں کہ جس میں بھلائی ہو ۔
وہ عاجزی سے گویا ہوئے۔
ہو گئے ناں روایتی باپ ۔ خوشی سے زیادہ بہتری کا سوچتے ہیں جس میں بھلائی ہو ۔
وہ بڑبڑائی ۔
باپ ہوں تب ہی بھلائی مانگ رہا ہوں ۔ باپ نہ ہوتا تو حالات الگ ہوتے ۔
ان کی آواز بھرا گئی تھی ۔ لگ رہا تھا کہ خود پر ضبط کیے بیٹھے ہیں ۔
PDF Novel Link
Enjoy Reading!!

0 Comments