Hasel e Zindagi Hae Tu By Mariam Aziz
Mariam Aziz is a famous Digest Writer, She has written many quality content in Digest.
Her Novel is worth reading💕💕
کسی نے کچھ کہا ہے؟ وہ اب اس کے ہاتھ چہرے سے ہٹا رہا تھا ۔
زمینا ۔ اب کہ سنجیدگی سے اس کا نام پکارا اس کی آواز میں پتا نہیں ایسا کیا تھا اس نے خود ہی دونوں ہاتھ ہٹا دیئے تھے ۔
میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن پاپا نے میری ایک بھی نہیں سنی اور یوں ایک دن میں شادی کی جیسے میں کوئی بہت فالتو چیز تھی جس سے ان کو نجات چاہیے تھی ، باہر سب پوچھ رہے تھے آنٹی سے کہ اتنی ایمرجنسی میں شادی کیوں کی ۔
وہ ہچکیوں کے درمیان بول رہی تھی اس کو غور سے سنتے اور دیکھتے طلال نے گہرا سانس لیا اور اسے صوفے پر بٹھایا پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا اور اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا ۔
ہر انسان اپنی بات کہنے کے لیے آزاد ہے ہم انہیں روک نہیں سکتے اگر ان عورتوں نے سوال کیا ہے تو کیا بے جی نے تمہارے یا انکل کے خلاف کوئی بات کی ہے؟
اس نے سوالیہ انداز میں اسے دیکھا ۔
جہاں تک میں بےجی کو جانتا ہوں انہوں نے ضرور ان عورتوں کو مطمئن کر دیا ہوگا ۔ دوسرا کسی ماں باپ کے لئے اولاد بوجھ نہیں ہوتی بےجی نے بڑی عزت کے ساتھ تمہارا رشتہ مانگا تھا انہیں مناسب لگا تو انہوں نے ہاں کر دی ۔ جلدی انہوں نے اس لئے کی کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی وہ چاہتے تھے خیر خیریت سے تمہاری شادی ہو جائے ۔
اس کے دل میں جو پریشانی تھی کہ پاپا نے پتا نہیں کیا کہہ کر اتنی جلدی شادی کی اسے تسلی ہوئی تھی ۔
لیکن طلال کے اگلے سوال نے پھر اسے پریشان کر دیا تھا ۔
تم یہ شادی کیوں نہیں کرنا چاہتی تھیں ۔ وہ اب سر ترچھا کیے اسی پر نظریں جمائے پوچھ رہا تھا ۔
PDF Novel Link
Enjoy Reading!!

0 Comments